حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لبنانی اعلیٰ اسلامی شیعہ کونسل کے نائب سربراہ حجت الاسلام والمسلمین شیخ علی الخطیب نےلبنانی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ سے کوئی توقع نہ رکھیں، جو صیہونی دشمن کو بچانے کے لیے براہ راست مذاکرات کے ذریعے اندرونی فتنہ کھڑا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے "خلع سلاح" کے عنوان کے تحت مقاومت کو غیر مسلح کرنے کے فیصلے سے پیچھے ہٹنے کا بھی مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا: جب تک صیہونی جارحیت جاری ہے، مقاومت بھی موجود رہے گی اور لبنان اس منطقی اصول سے مستثنیٰ نہیں ہوگا۔ لہذا ہتھیار ڈالنے کے نظریے کے حامی جب تک صیہونی قبضہ اور جارحیت باقی ہے، اپنی شرط لگانا چھوڑ دیں۔
شیخ علی الخطیب نے کہا: آج ہم جس چیز کا مشاہدہ کر رہے ہیں وہ ان قوتوں کے درمیان جنگ ہے جو فساد کے عروج کی نمائندگی کرتی ہیں۔ یہ قوتیں آج طاقت کے ذریعہ امن قائم کرنے کا نعرہ لگا رہی ہیں جس کا مطلب ہے فلسطین، لبنان، عرب اور اسلامی علاقے کے باشندوں کی تباہی، ان پر تسلط اور انہیں سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی اطاعت پر مجبور کرنا۔
انہوں نے مزید کہا: یہ ایک تہذیبی جنگ ہے جسے مقاومتی قوتیں، خاص طور پر جمہوریہ اسلامی ایران، اکیلے ہی آگے بڑھا رہی ہیں۔ ایران نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی کھوکھلی ہیبت کو، جو اس دنیا میں شر کی سب سے بڑی طاقت ہے، اور اس کے خطے میں ناجائز اولاد کا بھرم توڑ کر رکھ دیا ہے۔
لبنان کی اعلیٰ اسلامی شیعہ کونسل کے نائب سربراہ نے کہا: یہ خطہ ایک نام نہاد "وجودی" جنگ میں الجھا ہوا ہے اور دشمن اپنی تباہ کاریوں اور قتل و غارت کے ذریعے اپنی طاقت اور تسلط کی ایک ایسی تصویر پیش کر رہا ہے گویا وہ اب بھی اس میدان میں بااثر اور فیصلہ کن ہے حالانکہ وہ اپنے اندرونی گماشتوں اور میڈیا پروپیگنڈوں کے باوجود نابودی کے قریب ہے اور تباہی کے دہانے پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اصل جنگ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ ہے اور جمہوریہ اسلامی ایران کو گھٹنے ٹیکنے اور اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے میں اس کی ناکامی بلاشبہ ثابت ہو چکی ہے۔ آج یہ ملک (ایران) تمام محاذوں پر اس جنگ کے خاتمے کو اپنی شرائط پر طے کر رہا ہے اور کوئی بھی جمہوریہ اسلامی کو مجبور نہیں کر سکتا کہ وہ لبنان کے محاذ پر جنگ بندی کی اپنی شرط سے دستبردار ہو جائے۔









آپ کا تبصرہ